مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوترش نے واشنگٹن کی جانب سے دو طرفہ یا کثیرالجہتی معاہدوں میں اپنے وعدوں کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی کی تاریخ کا حوالہ دیے بغیر، امریکہ اور ایران سے سفارت کاری کی راہ پر واپس آنے اور جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے فریقین کے درمیان مذاکرات کے لیے حالات پیدا کرنے میں پاکستان کے ’’مرکزی کردار‘‘ کی بھی تعریف کی۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اس حوالے سے دعویٰ کیا کہ آپ کی (اسلام آباد کی) کوششوں نے 17 جون کو اسلام آباد میں مفاہمتی یادداشت (ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت، جسے ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر منسوخ کر دیا) تک پہنچنے، اس کے بعد ہونے والی جنگ بندی اور مزید مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک تشکیل دینے میں مدد کی۔ ہر پاکستانی کو اس مرکزی کردار پر فخر کرنا چاہیے۔
یہ بیانات اسلام آباد میں پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران دیے گئے۔
واضح رہے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل منگل سے جمعرات تک پاکستان میں موجود رہیں گے۔
گوترش نے کہا کہ میں اسلام آباد سے تمام فریقوں کو ایک واضح اور دوٹوک پیغام دینا چاہتا ہوں: تنازع ختم کریں۔ سفارت کاری کی جانب واپس آئیں۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق جہاز رانی کے حقوق اور آزادی کو مکمل طور پر بحال کریں۔
یاد رہے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوترش کی جانب سے ’’ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے میں دلچسپی‘‘ کے دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ کی جانب سے ایران کی سرزمین پر گزشتہ دو جارحیتیں، جو تمام بین الاقوامی قوانین کے برخلاف کی گئیں، تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے دوران ہوئیں اور انہوں نے دنیا پر ثابت کر دیا کہ امریکہ کبھی مذاکرات کا خواہاں نہیں رہا۔
آپ کا تبصرہ